Skip to main content

8 Oct 2005

      Deathly view 😢 don’t u remember them ??

willy  we can’t fight with death 
       


Why do we are afraid of death as we know and believe that it will definitely happen  nothing can repel it we all have to die willi nilli .


morning at 8;50;39/ 2005

A day started with heartbreaking earthquake its depth was 15km ,and about 87,300 dead, It registered a moment magnitude of 7.6

Azad Kashmir, Muzaffarabad, Balakot, Jammu and Kashmir were the center of the quake while its severity was also felt in Pakistan, India and neighboring countries like China and Afghanist  


I still remember my school day, the red building was waving, the children, the noise of the children, the beatS of afraid hearts, the colorless faces with the fear of death, and the voice of KALAMA ' ' LA ILLAHA ILLALLAH''

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

بے پردگی کا عالم

؀بے پردگی کا عالم میں کس طرح بتاؤں -  ذہریلا  سانپ ہے یہ امت کو ڈس نہ جاۓ 😒 بہنوں کے مشغلوں سے بھائی بھی بے خبر ہیں پوچھیں تو کس طرح وہ جب خود ادھر اُدھر  ہی 😏   بیٹی بھی لاڈلی ہے پردا کرے تو کیسے ؟ آنگن میں اپنے گھر کے جی کو بھرے تو کیسے ؟ بہت کچھ نہیں صرف ایک بات قابل غور ہے عورت کو سمندر کی ریت کہا جاتا ہے  وہ ریت جو تیہ میں ہو تو کیچر بن جاتی ہے  ۔ اگر ساحل پہ عیاں ہو تو قدموں کی دُھول ۔لیکن جب وہی ریت سیپ  میں خود کو ڈھانپ لیتی ہے پردہ میں آ جاتی ہے  تو نایاب موتی بن جاتی ہے ۔ حیا نایا ب ۔

ملالہ کے سوال کا جواب

  نکاح   ایک   عقد  /  عہد   ہے   ۔   جو   ربالعزت   کو   گواہ   بنا   کراپنی   رضامندی   سے   کسی   کو   اپنے   نفس   کے   لیے قبول   کرنے   کا   نام   ہے     ۔     اور   ہمارا   دین   جہاں   بہت   پاک      ہے   وہاں   ہمارے   رب   کا   حکم   یہ   بھی ہے   کہ   جب   آپس   میں   کوئی   معاہدہ   طے   کر   لو   تو   اسے   لکھ   لیا   کرو   تا   کہ   سند   رہے   اور     ساتھ   میں     دو   گواہ بھی   بنا   لیا   کرو      یہ   حکم   تو   قرآن   پاک   میں   ہر   معاملے   کے   لیے   ہے   تو   زندگی   کے   اتنے   اہم   معاملے   میں   ...

قسمت/تقدیر what is luck

قسمت کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے مجھے اک عمر تک پریشان رکھا،آپ نے سنا ہو گا کہ انسان   اپنی قسمت خود بناتا ہے تو پھر اپنی ناکامی کا الزام قسمت یا تقدیر کو کیوں دیتا ہے؟ اور اگر ہر بات تقدیر میں لکھی ہوئی ہے تو انسان تو بے گناہ ٹھہرا،  قاتل کو سزا نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ اسکی توقسمت میں قتل تھا؟؟ درحقیقت ایسا نہیں ہے ، اللہ پاک نے ہمیں ہر بات پر اختیار نہیں دیا لیکن بہت سی باتوں پر با اختیار کیا  ہے ۔ جیسے ہماری سوچ ،ہمارا عمل ، ہمارا بولنا، صحیح اور غلط دونوں پر اختیار ہے ،نا کام رہنا ہماری  قسمت میں ہرگز نہیں لکھا گیا بلکہ اسے محنت  سے  کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔ جبکہ تقدیر وہ ہے جس پر  ہمارا اختیار نہیں جیسے ہمارا دنیا میں آنا ، پھر دنیا سے جانا،لڑکا یہ لڑکی ہونا ۔آسان الفاظ یہ کہ جو ہم بدل سکتے ہیں وہ قسمت ہے اور جہان ہمارا زور نہیں وہ تقدیر ہے۔