Skip to main content

ملالہ کے سوال کا جواب




 


نکاح ایک عقد / عہد ہے ۔ جو ربالعزت کو گواہ بنا کراپنی رضامندی سے کسی کو اپنے نفس کے لیےقبول کرنے کا نام ہے  ۔  اور ہمارا دین جہاں بہت پاک   ہے وہاں ہمارے رب کا حکم یہ بھیہے کہ جب آپس میں کوئی معاہدہ طے کر لو تو اسے لکھ لیا کرو تا کہ سند رہے اور  ساتھ میں  دو گواہبھی بنا لیا کرو   یہ حکم تو قرآن پاک میں ہر معاملے کے لیے ہے تو زندگی کے اتنے اہم معاملے میں  مسلمان ہوتے ہوئے اللہ نبی کے حکم کو پسےپشت ڈالنا اور اسے غیر ضروری قرار دینا آپ کیدین سے دوری ہے یا تو کہہ دیں کہ آپ غیرمسلم ہیں تو آپ کو سب حرام کاریوں کی ایجازت ملجائے گی لیکن مسلمان ہو کہ اپنے رب سے بغاوت کرنا اور اپنے  مسلمان بہن بھائیوں کے ایمانکو  خراب کرنا اور کفار کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے گھر میں آگ لگا لینا کونسی عقل مندی ہے ۔  سستی شہرت کمانے کا  اور ڈھیروں حرام مال جمع کرنے کا یہ انداز اب پرانا ہو گیا ۔ خدا تمہیںہدایت دے 


اپنے بچوں کی باتوں کا احسن طریقہ سے جواب دیں وگرنا یہ کفار ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیںگے اپنے گھٹیا اطوار نئی نسل کے جوش مارتے خون میں ایسے گھولیں گے جیسے پانی گھول جائے 

حیا نایاب


Comments

Popular posts from this blog

بے پردگی کا عالم

؀بے پردگی کا عالم میں کس طرح بتاؤں -  ذہریلا  سانپ ہے یہ امت کو ڈس نہ جاۓ 😒 بہنوں کے مشغلوں سے بھائی بھی بے خبر ہیں پوچھیں تو کس طرح وہ جب خود ادھر اُدھر  ہی 😏   بیٹی بھی لاڈلی ہے پردا کرے تو کیسے ؟ آنگن میں اپنے گھر کے جی کو بھرے تو کیسے ؟ بہت کچھ نہیں صرف ایک بات قابل غور ہے عورت کو سمندر کی ریت کہا جاتا ہے  وہ ریت جو تیہ میں ہو تو کیچر بن جاتی ہے  ۔ اگر ساحل پہ عیاں ہو تو قدموں کی دُھول ۔لیکن جب وہی ریت سیپ  میں خود کو ڈھانپ لیتی ہے پردہ میں آ جاتی ہے  تو نایاب موتی بن جاتی ہے ۔ حیا نایا ب ۔

قسمت/تقدیر what is luck

قسمت کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے مجھے اک عمر تک پریشان رکھا،آپ نے سنا ہو گا کہ انسان   اپنی قسمت خود بناتا ہے تو پھر اپنی ناکامی کا الزام قسمت یا تقدیر کو کیوں دیتا ہے؟ اور اگر ہر بات تقدیر میں لکھی ہوئی ہے تو انسان تو بے گناہ ٹھہرا،  قاتل کو سزا نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ اسکی توقسمت میں قتل تھا؟؟ درحقیقت ایسا نہیں ہے ، اللہ پاک نے ہمیں ہر بات پر اختیار نہیں دیا لیکن بہت سی باتوں پر با اختیار کیا  ہے ۔ جیسے ہماری سوچ ،ہمارا عمل ، ہمارا بولنا، صحیح اور غلط دونوں پر اختیار ہے ،نا کام رہنا ہماری  قسمت میں ہرگز نہیں لکھا گیا بلکہ اسے محنت  سے  کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔ جبکہ تقدیر وہ ہے جس پر  ہمارا اختیار نہیں جیسے ہمارا دنیا میں آنا ، پھر دنیا سے جانا،لڑکا یہ لڑکی ہونا ۔آسان الفاظ یہ کہ جو ہم بدل سکتے ہیں وہ قسمت ہے اور جہان ہمارا زور نہیں وہ تقدیر ہے۔